Pir Naseeruddin Naseer BAYAN
فریدا مھندی رانگلی جو لائی سگل جہان
سرو چو دید آن قد بالا
گفت سبحان ربی الاعلی
ہو گی رحمت گنہگاروں پر
کون پوچھے گا بے گناہوں کو
فریدا مھندی رانگلی جو لائی سگل جہان
اکناں نوں رنگ چڑھ گیا اک رہ گئے امن امان
فرید ثانی رحمتہ الله علیہ
نکل کر جو بندے سے باہر وہ آیا
تعین کی چادر میں خود کو چھپایا
کچھ اس رنگ میں اپنا جلوہ دکھایا
سمجھ اب تک جسکی نہیں آ رہی ہے
پیر سید غلام معین الدین گیلانی رحمتہ الله علیہ
سگل بن پھول رہی سرسوں ۔
سگل بن پھول رہی سرسوں ۔
امبوا مورے ، ٹیسو پھولے، کوئل کوکت ڈار-ڈار،
اور گوری کرت سنگار،
ملنییاں گیندوا لے آئیں کر سوں ۔
سگل بن پھول رہی سرسوں ۔
ترہ ترہ کے پھول کھلائے،
دیکھن وا آنگن میں آئے ۔
نجامدین کے دروزے پر،
آون کہ گئے عاشق رنگ،
اور بیت گئے برسوں ۔
سگل بن پھول رہی سرسوں ۔
امیر خسرو دھلوی رحمتہ الله علیہ
شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
0 comments:
Post a Comment